168

ہرلین دیول: ایک کیچ سے انگلینڈ سے انڈیا تک دھوم مچانے والی لڑکی کی کہانی

انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹی ٹونٹی میچ میں بہترین کیچ پکڑنے والی ہرلین دیول کے نام کی دھوم مچی ہوئی ہے اور ان کے چرچے انگلینڈ سے انڈیا تک ہو رہے ہیں۔انڈیا کے وزیر اعظم اور وزیر کھیل سے لے کر پرینکا گاندھی اور سچن ٹنڈولکر تک نے ہرلین کے کیچ کی تعریف کی ہے۔سچن تندولکر نے تو ٹویٹ کرتے ہوئے اسے سال کا بہترین کیچ قرار دیا۔اگرچہ انڈیا کی عورتوں کی ٹیم انگلینڈ کے خلاف یہ میچ ہار گئی لیکن میچ سے زیادہ ہرلین کی بات ہو رہی ہے، حتیٰ کہ انگلش کرکٹ بورڈ کو بھی ہرلین کی تعریف کرنی پڑی۔کھیل کے میدان میں ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جب ہرلین نے باؤنڈری پر انتہائی شاندار کیچ لیا تو اس کے بعد انھیں احساس ہوا کہ ان کا پاؤں باؤنڈری سے آگے جا سکتا ہے اور اس بات کا احساس ہوتے ہی ہرلین نے گراؤنڈ کے اندر گیند اچھال دی اور دوبارہ باؤنڈری کے باہر آ کر کیچ پکڑ لیا۔23 برس کی ہرلین کا یہ کیچ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ انھوں نے میچ کے 19ویں اوور میں شیکھا پانڈے کی گیند پر ایمی جونز کا کیچ پکڑا تھا۔ہرلین دیول کا تعلق ضلع پٹیالہ سے ہے جبکہ ان کا ننھیال ضلع سنگرور سے ہے لیکن ہرلین انڈین کرکٹ ٹیم میں ریاست ہماچل پردیش کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ ان کے والدین فی الحال موہالی میں رہتے ہیں۔ہرلین کے والد بی ایس دیول ایک بزنس مین ہیں اور والدہ چرنجیت کور دیول پنجاب حکومت کی ملازم ہیں۔ہرلین کی والدہ چرنجیت کور نے بی بی سی پنجابی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی بچپن سے ہی کھیلوں میں دلچسپی لیتی تھی وہ سخت محنت اور اپنے شوق کے ساتھ یہاں پہنچی ہے۔چرنجیت کور کے مطابق ان کے خاندان میں کوئی بھی کھیلوں میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا لیکن ہرلین بچپن سے ہی کھیلوں میں شریک ہوتی تھی۔ ہرلین کو گھر میں ہیری کہہ کر بلایا جاتا ہے اور وہ بچپن میں کرکٹ نہیں بلکہ فٹ بال کھیلتی تھیں۔ان کی والدہ نے بتایا کہ ہرلین چار سال کی عمر سے لڑکوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے لگی تھیں۔صرف یہی نہیں موہالی کے یادویندرا پبلک سکول میں وہ چار سال تک فٹ بال کی بہترین پلیئر بھی رہی تھیں۔اس کے بعد ہرلین نے کرکٹ کا رخ کیا اور لڑکوں کی ٹیم کے ساتھ کرکٹ کھیلنا شروع کر دی۔ جب سکول کی کرکٹ ٹیم تشکیل دی گئی تو ہرلین کو بھی ٹیم میں جگہ ملی۔چرنجیت کور کے مطابق ہرلین نے سب سے پہلے آٹھ سال کی عمر میں سب جونیئر لیول کے قومی کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لیا تھا۔اس کے بعد پنجاب کی ٹیم میں منتخب ہوئیں اور پھر اپنے کھیل کو بہتر بنانے کے لیے گرلز کرکٹ اکیڈمی، دھرم شالہ میں داخل ہو گئیں اور وہ اکیڈمی سے اب بھی وابستہ ہیں۔ہرلین موجودہ انڈین ٹیم میں آل راؤنڈر کے طور پر کھیلتی ہیں۔ عمدہ بیٹنگ کے علاوہ وہ اچھی لیگ سپنر بھی ہیں۔حال ہی میں ایک ٹی وی انٹرویو میں ہرلین نے کہا کہ لڑکوں کی طرح لڑکیوں کی بھی کھیلوں میں آگے آنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ہرلین کے مطابق لڑکیوں کو بھی اپنے مقاصد سامنے رکھ کر سخت محنت کرنی چاہیے پھر انھیں ان کے مقصد تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔چرنجیت کور کے مطابق ان کی بیٹی سنہ 2012 سے ہی اپنی فٹنس کا پورا خیال رکھ رہی ہے اس دوران وہ یا تو اکیڈمی میں یا ٹیم کے ساتھ رہی ہیں۔وہ گذشتہ سال کورونا لاک ڈاؤن کے دوران کچھ مہینوں تک اپنے گھر والوں کے ساتھ رہی تھیں۔ چرنجیت کور کے مطابق ہرلین مٹھائی کھاتی ہیں اور نہ ہی آئس کریم۔چرنجیت کور بتاتی ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی ہرلین پریکٹس کرتی رہیں۔ اس کے لیے انھوں نے گھر میں ہی ایک جم بنایا اور چھت کو کھیل کا میدان بنا دیا۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کھیلوں پر اپنی توجہ دینے کی وجہ سے ہرلین خاندان کی کسی بھی تقریبات میں شرکت نہیں کرتیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہرلین اپنی بیٹنگ اور بولنگ سے گھر میں بہت سی چیزوں کو توڑ چکی ہیں۔ہرلین کی والدہ حکومتِ پنجاب میں ملازم ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ آج ان کے خاندان کا نام ان کی بیٹی سے پہچانا جاتا ہے۔ ہرلین کے ایک بڑے بھائی ڈاکٹر ہیں۔چرنجیت کور کے مطابق میچ کے بعد ہرلین نے فون پر ان سے بات کی اور وہ بہت خوش تھیں۔فون پر ہرلین نے بتایا کہ انھیں بہت سے لوگوں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات مل رہے ہیں۔اپنی بیٹی کی ایک پرانی کہانی بتاتے ہوئے چرنجیت کور نے کہا ‘ایک بار ایک سینئر کھلاڑی نے اپنی ٹی شرٹ ہرلین کو تحفے میں دی تھی۔ ہرلین نے اسے ہمیشہ سنبھال کر رکھا اور کبھی نہیں پہنا۔ وہ چھوٹی تھی لیکن اس نے کہا تھا کہ وہ بہت محنت کرے گی تاکہ ایک دن شرٹ پر اس کا بھی نام لکھا جائے۔ یہ کھیل کے لیے اس کا جنون تھا۔چرنجیت کور اور ان کے اہلخانہ اب اپنی بیٹی کی وطن واپسی کے منتظر ہیں تاکہ ہرلین کا پرتپاک استقبال کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں