چچا کی آخری رسومات کے دوران دو چچیرے بھائیوں کی موت

0
76
Clenched fist held in protest vector illustration. Panoramic
جموں// یواین آئی//کشمیری پنڈتوں نے ہفتہ کے روز یہاں چند روز قبل کورونا سے از جان ہونے والے ایک شخص کی آخری رسومات میں شرکت کے دوران دو چچیرے بھائیوں کی موت واقع ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متوفین کی لاشیں فوری طور پر لواحقین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کورونا میں مبتلا ہوکر مرنے والے ایک 65 سالہ شخص، جس کی جموں کے میڈیکل کالج و ہسپتال میں بدھ کی شام کو موت واقع ہوئی تھی، کی سدھرا علاقے میں آخری رسومات کی انجام دہی میں شرکت کے دوران متوفی کے دو بھتیجے بے ہوش ہوگئے تھے اور بعد ازاں ان کی موت واقع ہوئی تھی جن کی لاشیں ابھی لواحقین کے حوالے نہیں کی گئی ہیں۔احتجاجی ان دو چچیرے بھائیوں کی لاشوں کو لواحقین کے سپرد کرنے اور اس واقعے کے حوالے سے سی بی آئی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کررہے تھے۔کشمیری پنڈتوں کی ’کے پی والنٹیئر‘ نامی ایک سماجی تنظیم کے ایک کارکن نے اس موقع پر میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دو چچیرے بھائیوں کی موت انتظامیہ کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا،’’ہمارے ایک کورونا مریض کی دو روز قبل موت واقع ہوئی اور پھر اس کی آخری رسومات کی انجام دہی کے دوران اس کے دو بھائیوں کے دو بیٹے بھی ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے از جان ہوگئے کیونکہ ان کو دوپہر میں کئی گھنٹوں تک 43 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں پی پی ای کٹ پہنے ہی رکھا گیا تھا اور ان کو وہاں موجود حکام نے پانی تک نہیں پلایا‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان دو چچیرے بھائیوں کی موت انتظامیہ کی ناکامی کا بین ثبوت ہے۔ایک اور احتجاجی نے بتایا کہ ان دو جوانوں کی موت حکومت کی غفلت شعاری سے واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں کووڈ کے مریض نہیں تھے لیکن ہمیں ابھی بھی ان کی لاشیں نہیں دی جارہی ہیں۔موصوف احتجاجی نے اس واقعے میں سی بی آئی تحقیقات اور متوفین کی بیویوں کو سرکاری نوکری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں میں میتوں کی آخری رسومات کی انجام دہی کے لئے مناسب جگہ بھی دستیاب نہیں ہے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here