لیفٹیننٹ گورنر نے گورو نانک چیئر اور جموں یونیورسٹی کا خصوصی مقصد وہیکل فائونڈیشن کا اِفتتاح کیا

0
167

جموں/27؍نومبر : لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہاجو کہ جموں یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، نے آج گورونانک چیئر اور جموں یونیورسٹی کے خصوصی مقصد وہیکل فائونڈیشن بلڈنگ کا اِفتتاح کیا۔ اِس موقعہ پر جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر منوج کمار دھر بھی موجود تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس موقعہ پر کہا کہ حال ہی میں جب بھارت کے پارلیمان نے جموں وکشمیر سرکاری زبان بل2020 یوٹی حکومت کی درخواست پر منظور کی۔ حکومت ہند نے جموں وکشمیر میں پنجابی زبان کے فروغ اور ترقی دینے کی بھی اِجازت دی اوراِس ضمن میں آج ایک اہم قدم اُٹھایا گیا ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یوٹی حکومت جموںوکشمیر میں پنجابی زبان کے فروغ اور ترقی دینے کا وعدہ بند ہے اور یقین دلایا کہ حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کرے گی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ پہاڑی اور گوجری زبانوں کے لئے چیئرس کا قیام عنقریب عمل میں لایا جائے گاتاکہ جموں وکشمیر میں علاقائی زبانوں کو ترقی دی جاسکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ مسرت کا مقام ہے کہ آج جموں یونیورسٹی میں گورونانک چیئرکے قیام سے ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ اُنہوں نے کہا کہ گورونانک دیو جی کے آفاقی تعلیمات آج بھی معاشرے کے لئے رہنمائی کر رہی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ گورونانک چیئرکے قیام سے طلاب کی شخصیات میں مزید نکھار آئے گا۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارے اندر اور باہر کی دنیا میں ایک مکمل توازن کا قیام کافی اہم ہے اور اس سے استفادہ کرنے کے لئے طلاب کے لئے یہ ایک بہترین موقعہ ہے۔اس سے قبل وائس چانسلر جموں یونیورسٹی منوج کے دھر نے اپنے خطبہ اِستقبالیہ میں لیفٹیننٹ گورنر اور یونیورسٹی کے چانسلر کو ان کی مدد اور رہنمائی کے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری نتیشور کمار دیرا ننگلی صاحب پونچھ کے سربراہ مہانت منجیت سنگھ، چیئر مین ضلع گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردارایس تر لوچن سنگھ وزیر ،صدر پنجابی لکھاک سبھا ڈاکٹر منجیت سنگھ،سردار جگجیت سنگھ سابق صدر ڈی سی پی جی کا گرمجوشانہ استقبال کیا۔اِس موقعہ پر روفیسر رجنی ڈھینگرا ، ڈین ریسرچ سٹیڈیز پروفیسر نریش پڈھا ، ڈین اکیڈمک افیئرس ، مختلف تدریسی شعبوں کے سربراہان ، مختلف محکموں کے پروفیسر ستنم کور ، انچارج گورو نانک چیئر پروفیسر پریکشت منہاس ، ڈائریکٹر یو او جے ایس پی وی فاؤنڈیشن ، افسران ، مختلف انجمنوں کے صدور اور نان ٹیچنگ سٹاف بھی موجود تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here