259

طالبان کی پيش قدمی، ہزاروں افغان اپنے ہی ملک ميں بے گھر

کابل:افغانستان ميں طالبان کی حاليہ پيش قدمی کے نتيجے ميں ہزاروں مقامی باشندے بے گھر ہو گئے ہيں۔ طالبان نے اپنے طور طريقے بدلنے کا کہہ رکھا ہے مگر يہ لوگ طالبان پر ماضی کی طرح سخت طرز عمل اور کارروائيوں کا الزام عائد کرتے ہيں۔سکينہ کی عمر شايد گيارہ يا بارہ برس ہے۔ حال ہی ميں شمالی افغانستان ميں طالبان نے جب اس کے گاؤں پر قبضہ کيا اور اسکول کو نذر آتش کر ديا، تو وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پيدل دس دنوں کی مسافت طےکر کے پناہ کے ايک مرکز تک پہنچی۔ مزار شريف کے نواح ميں ايک عارضی کيمپ واقع ہے، جس ميں ان دنوں پچاس خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ سکينہ کا خاندان بھی ان ميں سے ايک ہے۔ يہ سب وہ لوگ ہيں، جنہيں اپنے گاؤں پر طالبان کی حاليہ چڑھائی کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنا پڑ گيا۔ شمالی افغانستان کو امريکی حمايت يافتہ افغان سرداروں کا گڑھ مانا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب غير ملکی افواج کے انخلاء کے تناظر ميں صورتحال تبديل ہو رہی ہے۔ حاليہ ہفتوں ميں سکينہ کے جيسے ہزارہا خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہيں۔ صرف گزشتہ پندرہ ايام ميں ہی ساڑھے پانچ ہزار سے زائد خاندان اپنے ہی ملک ميں بے گھر ہو چکے ہيں۔ پاکستان: افغان طالبان کی حمایت میں اضافہ، اثرات کیا ہوں گے؟ امید ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، فواد چوہدی افغان شہریوں کو یورپ سے بے دخل نہ کریں، کابل کی اپیل مزار شريف کے نواح ميں واقع استقلال کيمپ ميں اکثريتی طور پر ہزارہ برادری کے افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کيا ہے کہ قبضے کی کارروائيوں کے دوران طالبان نے بے رحمانہ طرز عمل اختيار کيا جس سے ان کے ايسے وعدوں کی ترديد ہوتی ہے کہ وہ مستقبل ميں ماضی کے سخت طريقہ کار بروئے کار نہيں لائيں گے۔ سکينہ نے بتايا کہ صوبہ بلخ کے عبدلگان نامی گاؤں سے ان کو راتوں رات فرار ہونا پڑا۔ طالبان نے سکينہ کے اسکول کو بھی نذر آتش کر ديا۔ استقلال کيمپ ميں نہ تو بجلی کا انتظام ہے اور نہ ہی پانی وغيرہ کا۔ پورے کيمپ کے ليے صرف ايک بيت الخلاء ہے۔ رات کے وقت سکينہ اکثر ڈر کر اٹھ جاتی ہے اور کہتی ہے، ”مجھے لگتا ہے کہ طالبان آ گئے ہيں۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔‘‘ استقلال کيمپ کے ايک اور رہائشی اشور علی ٹرک ڈرائيور کا الزام ہے کہ طالبان نے اپنے زير کنٹرول علاقوں ميں اپنا نظام متعارف کرا ديا ہے کہ کئی معلامات ميں فيسيں مقرر کر دی ہيں۔ اس کے بقول سمن گن سے کوئلے سے بھرا ٹرک لانے پر اسے ہر دفعہ بارہ ہزار افغانی (147 ڈالر) ادا کرنے پڑتے ہيں، جو اس کی آمدنی کے نصف حصے کے برابر ہيں۔ طالبان آج کل بين الاقوامی کانفرنسوں ميں شرکت کر رہے ہيں۔ ان کے کئی اعلی عہديدار سفارتی مشنوں پر آ جا رہے ہيں۔ تمام ملاقاتوں ميں طالبان نے يقين دہانی کرائی ہے کہ اقليتوں کے ارکان اور ديگر شہريوں کو بھی خوف ميں مبتلا ہونے کی ضرورت نہيں۔ تاہم طالبان جو اعتدال پسند خاکہ پيش کرنے کی کوشش کر رہے ہيں، کيا واقعی حقيقت ايسی ہی ہے۔ طالبان کے زير قبضہ علاقوں سے فرار ہونے والے افراد مختلف حقيقت بيان کر رہے ہيں۔ امريکا کے ساتھ طے شدہ معاہدے ميں بھی طالبان نے يقين دہانی کرائی تھی کہ وہ صوبائی صدر مقاموں پر قبضہ نہيں کريں گے مگر ملک کے شمال اور جنو ميں دو مقامات پر وہ ايسا کرنے کو ہيں۔ چين، روس، امريکا اور پاکستان سب ہی طالبان کو ايسا کرنے سے باز رہنے کا کہہ چکے ہيں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں