200

کووڈ کی تیسری لہر کا مقابلہ کرناایک اورچیلنج:وزیراعظم

نیوزمانٹرینگ
سری نگر:۳۱،جولائی:وزیراعظم نریندرمودی نے سیاحتی مقامات پرعوامی جم غفیر اوررہنمااصولوںکی خلاف ورزی کوباعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کووڈ کی تیسری لہر کا مقابلہ کرنے کےلئے ویکسی نیشن میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کوروناکی تیسری لہرکوروکنے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاکہٹیکہ کاری سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرنے کےلئے ہمہ گیر بیداری مہم چلانی ہوگی ۔شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات چیت کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں کورونا کے ہر مختلف شکل پر نگاہ رکھنی ہوگی، یہ وائرس اپنی شکل بار بار تبدیل کرتا ہے اور ہمارے لیے چیلنجز بھی پیدا کرتا ہے، ہمیں خود تیار رہنا ہے اور لوگوں کو بھی بیدار کرتے رہنا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ریاست میں کورونا وائرس کی صورت حال اور ویکسی نیشن مہم کے متعلق بات چیت کی۔وزیر اعظم نے سیاحتی مقامات پر بڑھتے ہوئے ہجوم اور شمال مشرقی ریاستوں میں انفیکشن کی شرح میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے صحت کے کارکنوں نے گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ محنت کی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں نے ویکسین کے ضائع ہونے کو کافی حد تک روک لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں کے کچھ اضلاع میں مثبت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں خود تیار رہنا ہے اور لوگوں کو بھی بیدار کرتے رہنا ہے۔ انفیکشن کو روکنے کے لیے ہمیں مائیکرو لیول پر مزید سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں کورونا کے ہر مختلف شکل پر نگاہ رکھنی ہوگی۔ یہ وائرس اپنی شکل کو بار بار تبدیل کرتا ہے اور ہمارے لئےچیلنجز بھی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اسبات پرزوردیاکہ ہمیں ہر مختلف حالت پر گہری نظر رکھنی ہوگی۔ ماہرین ان کا مطالعہ کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ ہمیں لوگوں کو کووڈ 19 کے رہنما اصول پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے اور کووڈ کی تیسری لہر کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی لانے کی بھی ضرورت ہے۔وزیراعظم مودی نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے سیاحت اور کاروبار بہت متاثر ہوا ہے۔ سیاحتی مقامات پر اور بازار میں ماسک پہنے بغیر، پروٹوکول پر عمل کیے بغیر ، بہت زیادہ لوگوں کا ہجوم جمع ہونا تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ٹھیک نہیں ہے،اوراس پر توجہ دینا ضروری ہے کہ کورونا کی تیسری لہر کو آنے سے کیسے روکا جائے اور یہ وائرس خود نہیں آتا ہے، کوئی جاکر لے آتا ہے تو ہی وہ آتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اہم مسئلہ تیسری لہر کی آمد کو روکنا ہے،اسلئے ہمیں کورونا پروٹوکول پر مکمل طور سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ ماہرین بار بار تیسری لہر کے متعلق متنبہ بھی کر رہے ہیں کہ عدم توجہی ، لاپرواہی اور زیادہ بھیڑ کی وجہ سے ایسی وجوہات بھاری نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ وزیر اعظم ہر سطح پر اقدامات اٹھائے جائیں۔ ہمیں بھیڑ کو جمع ہونے سے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تیسری لہر کا مقابلہ کرنے کےلئے ہمیں ویکسی نیشن مہم کو تیز کرتے رہنا ہے۔ٹیکہ کاری سے متعلق شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لئے ہمیں معاشرتی، ثقافتی، مذہبی، تعلیمی تمام لوگوں کو جوڑنا ہے۔ مشہور شخصیات کے ذریعہ اس کی تشہیر کی جائے اور لوگوں کو بھی متحرک ہونا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں