156

قربانی کے جانوروں کی خریداری ؟

بھیڑبکریوں،بیلوں اوراونٹوں کی قیمتوں میں بھی کوئی اعتدال نہیں
کوٹھداروں، بکروالوں اور قصابوں کی جانب سے منہ مانگی قیمتیں مقرر
سری نگر:۳۱،جولائی:جے کے این ایس : انتظامیہ کی جانب سے قربانی کے جانوروںکی قیمتیں مقررکئے جانے کے باوجودکشمیرمیں بھیڑ بکریوں کی قیمتیں کسی اعتدال پرنہیں ہیں ،کیونکہ شہرودیہات میں قربانی کے جانوروںکی منہ مانگی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں ۔کورونا وائرس کی پہلی اوردوسری لہر کے باعث عائد بندشوں اورپابندیوں کے باعث گزشتہ دوبرسوں سے عام لوگوں کی معاشی اورمالی حالت کافی خراب ہوئی ہے ،اوراس وجہ سے امسال بھی قربانی کے جانوروںکی خریداری میں کافی کمی پائی جاتی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق اب جبکہ عیدالاضحی یعنی عیدقربان منانے کامقدس وبابرکت دن قریب آرہاہے تو کشمیرمیں قربانی کے جانوروں کوخریدنا عام آدمی یامتوسط طبقوں کیلئے مشکل بن گیاہے ،کیونکہ قربانی کے جانوروںکی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیاگیا ہے ۔جہاں محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے زندہ بھیڑبکریوں کی قیمت فی کلو260روپے سے285روپے مقررکی ہے ،وہیں قربانی کے جانوروں کاکاروبار کرنے والوں بشمول قصابوں ،کوٹھداروں،بکروالوں اوردیگرلوگوں نے بھیڑ بکریوں کی قیمت فی کلو300سے350مقررکی ہے ،اوروہ من مانے طورپر قربانی کے خواہشمند لوگوں سے یہی قیمت وصول کررہے ہیں ۔اس دوران معلوم ہواکہ بڑے جانوروں یعنی بیل کی قیمت کوبھی متعلقہ افرادنے من مانے طورمقررکیاہے ،اورقربانی کے بڑے جانورفی کلو350سے400روپے کے حساب سے فروخت کئے جارہے ہیں ۔عیدالاضحی کومسلم کلینڈرکے آخری مہینے یعنی ذی الحجہ کی 10تاریخ کومنایا جاتاہے اوراس حساب سے امسال جموں وکشمیرمیں رواں ماہ کی 21تاریخ کوعیدالاضحی کی تقریب سعید روایتی مذہبی عقیدت واحترام کیساتھ منائی جائیگی، اس عید پر جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے عید قربان بھی کہا جاتا ہے ۔اب جبکہ عیدالاضحی محض 7روز بعدانشاءاللہ منائی جارہی ہے تو جموں وکشمیر بالخصوص وادی بھرمیں قربانی کے جانوروںکی خریدوفروخت کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے جبکہ بہت سارے لوگوں نے پہلے ہی قربانی کے جانور خرید رکھے ہیں ۔تاہم گزشتہ 2برسوں سے جاری معاشی ومالی بحران اورقیمتیں بے اعتدال ہونے کی وجہ سے سری نگرسمیت پوری کشمیروادی میں قربانی کے جانوروں کی خریداری میں کافی کمی پائی جارہی ہے ۔عیدالاضحی سے قبل جانوروں کی خرید و فروخت کے حوالے سے ہر جگہ منڈیاں لگائی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ یوم عرفہ تک جاری رہتا ہے۔ لیکن اقتصادی بحران اور من مانی قیمتوں کی وجہ سے اس بار جانوروں کی خریداری کے تعلق سے کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔منڈیوں اور بازاروں میں قربانی کےلئے الگ الگ نسل کی بھیڑ بکریاں اوربیل بھی دستیاب تو ہیں لیکن خریدار ندارد۔ جانکار مانتے ہیں کہ گزشتہ سال سے کورونا وائرس وباءاور لاک ڈائون نے اقتصادی طور پر یہاں کے عوام کو پہلے ہی مالی لحاظ سے کمزور بنادیا ہے۔جبکہ کوٹھیداروں، بکروالوں اور قصابوں کی من مانی قیمتوں کے چلتے لوگوں کےلئے قربانی کے جانور خریدنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن لگ رہا ہے۔محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے مقرر کی گئی قیمتوں کو بالائے طاق رکھ کر 300 سے 350 روپے فی کلو کے حساب سے گوشت فروخت کیا جارہا ہے۔ادھر انتظامیہ نے کورونا وائرس کے پیش نظر سڑک کے کنارے قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کی ہے جب کہ کورونا کے رہنما خطوط پر عمل پیرا رہ کر مخصوص جگہوں میں ہی جانوروں کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں