36

چہرے پر دیر تک رہنے والے میک اپ میں خطرناک کیمیکلز ہونے کا خدشہ

ایک نئی تحقیق میں پتا چلا ہے کہ میک اپ میں کچھ ایسے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو جسم اور ماحول میں برسوں تک رہ سکتے ہیں اور جن سے کئی بیماریاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔سائنس نیوز جریدے کے مطابق ’ان کیمیکلز کو پولی فلورو ایلکائل سبسٹنس (پی ایک اے ایس) کہا جاتا ہے۔‘امریکی ریاست انڈیانا میں یونیورسٹی آف نوٹرڈیم کے کیمسٹ گراہم پیسلی کا کہنا ہے کہ ’پی ایف اے ایس کے کوئی فوائد نہیں ہیں۔‘گراہم پیسلی اور ان کے ساتھیوں نے میک اپ کی ان اشیا کے امریکہ اور کینیڈا میں بڑے پیمانے پر ہونے والے جائزے میں پتا لگایا کہ ٹیسٹ کی جانے والی 200 اشیا میں سے 52 فیصد میں پی ایف اے ایس موجود تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’میک اپ سے صحت کے ممکنہ خطرات اب تک واضح نہیں ہیں۔مذکورہ ٹیم نے میک اپ کی 231 اشیا میں فلورین کی مقدار بھی ناپی، جو کہ پی ایف اے ایس کا اہم جز ہے۔ 63 فیصد فاؤنڈیشن، ہونٹوں پر لگانے والی 55 فیصد اشیا اور 82 فیصد مسکاروں میں فلورین کی بڑی مقدار موجود تھی۔وہ میک اپ جو چہرے پر دیر تک رہتا ہے اس میں فلورین کی مقدار زیادہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ پی ایف اے ایس پانی سے آسانی سے دھلتے نہیں ہیں۔گراہم پیسلی کا کہنا ہے کہ ’تحقیق میں سب سے پریشان کن بات یہ تھی کہ 29 اشیا جن میں پی ایف اے ایس پائے گئے ان میں سے 28 کے لیبل پر اس کیمیکل کی تفصیلات نہیں دی گئی تھیں جو ان میں استعمال ہوئے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ کچھ اشیا کے لیبل پر شاید غلطی سے معلومات شائع ہونا رہ گئی ہوں لیکن کچھ ایسی تھیں جن میں جان بوجھ کر انہیں شامل کیا گیا تھا تاکہ وہ طویل دورانیے تک چہرے پر رہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں