کشمیر ترقی نہیں کررہا ہے:طلاب4جی انٹرنیٹ سے محروم

0
81

ایک سال بعد پہلی مرتبہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی لب کشائی
سرینگر19،ستمبر کے این ایس پارلیمان کا مانسون اجلاس جاری رہنے کے بیچ سنیچر کے روز ایک سال بعد نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پہلی مرتبہ ایوان زیریں ( لوک سبھا ) میں بولتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر ترقی نہیں کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج کے تیز رفتار دور میں ہمارے طلبہ 4۔جی انٹر نیٹ سہولیت سے محروم ہیں جبکہ جموں وکشمیر میں قیام امن کی خاطر چین کی طرح پاکستان کیساتھ بھی بات چیت لازمی ہے کیونکہ بات چیت کے بغیر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پار لیمنٹ میں جاری مانسون اجلاس کے دوران ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو آج پہلی مرتبہ بات کر نے کا موقع دیا گیا ۔ تقریبا ایک سال کے بعد پہلی بار نیشنل کانفرنس کے رہنما اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلی ،ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے لوک سبھا میں تقریر کی۔ اس سے قبل وہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل370 کے خاتمے کے بعد تقریبا 8ماہ تک زیر حراست تھے۔ لیکن رہائی کے بعد پہلی بار پارلیمنٹ پہنچنے پر ڈاکٹر عبد اللہ نے کہا ’آج جموں وکشمیر کی صورتحال یہ ہے کہ وہاں (جموں وکشمیر ) میں کوئی ترقی نظر نہیںآرہی ہے‘۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان سے جاری کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔لوک سبھا میں اپنی تقریر کے آغاز میں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہائی کے لئے حکومت سے مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر عبداللہ نے تقریباً ایک سال بعد پارلیمنٹ میں واپسی کے بعد کہا ’مجھے آج موقع ملا ہے کہ میں ایک سال بعد اس ایوان میں آیا ہوں۔ جموں وکشمیر کی صورتحال ایسی ہے کہ جہاں ترقی ہونی چاہئے تھی وہاں ترقی نہیں ہوتی ہے۔ آج بھی ہمارے بچوں اور دکاندار4 ۔جی انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں ، جو ہندوستان کے دیگر مقامات پر ہے۔ ایسی صورتحال میں ، جب سب کچھ انٹرنیٹ پر انحصار ہے ، تو ہمارے بچے کیسے پڑھائی حاصل کرسکتے ہیں؟ ‘۔ڈاکٹرفاروق عبد اللہ نے امشی پورہ شوپیان فرضی انکاؤنٹر کا بھی ذکر کیا ۔انہوں نے فوج نے اس جھڑپ میں تحقیقات مکمل کرلی ہے اور آپریشن کو انجام دینے والے فوجیوں کو مورد الزام قرار دیا گیا ہے اور کارروائی شروع کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا’مجھے خوشی ہے کہ آج فوج نے قبول کیا ہے کہ شوپیاں میں مرنے والے تین افراد عام شہری تھے ، مجھے امید ہے کہ حکومت ان کے لئے معقول معاوضہ ادا کرے گی‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہند ۔چین اور ہند ۔پاکستان کشیدگی کا بھی ذکر کیا ۔انہوں نے کہا کہ سرحد پر تناو¿ بڑھتا جارہا ہے اور لوگ مررہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اس کا کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا اور بات چیت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوسکتا ہے‘۔ان کا کہناتھا ’ جس طرح آپ چین سے بات کر رہے ہیں ، اسی طرح ہمیں اپنے پڑوسی سے بھی بات کرنا ہوگی اور اس صورتحال سے نکلنے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا‘۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مزید کہا’آج انجینئر بننے والے انجینئر بھی کام نہیں کرسکتے ہیں۔ آج حکومت نے انہیں بھی بند کردیا ہے کہ آپ کام نہیں کرسکتے،بتاو¿ کہ اگر ہندوستان ترقی کر رہا ہے تو کیا جموں و کشمیر کو اس ملک کے ساتھ ترقی کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔اس دوران ایوان میں شور شرا بہ بھی سننے کو ملا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here