249

صنف نازک اورگھریلو تشدد

وادی کشمیرمیں صنف نازک کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے تشویشناک رخ اختیار کرلیاہے۔سسرال والوں کی زیادتیاں،جہیز کی مانگ کولیکر گھریلو تشدد اوردیگر ظلم وزیادتیاں ،صنف نازک کا مقدر بن چکی ہے۔اگرچہ ملک بھرمیں بنت حواکو گھریلو تشدد،جنسی زیادتیوں اوردیگر قسم کی ظلم وزیادتیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے سخت قوانین وضع کئے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود حواکی بیٹیاں تشدد کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔اہلیان وادی میں حواکی بیٹیوں کے تئیں بعض لوگوں کے ظالمانہ رویہ کولیکر کافی فکروتشویش پائی جارہی ہے۔ وادی کشمیر کا کلچرل ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کچھ الگ ہے ۔یہاں بھی اگرچہ خواتین اب مردوںکے شانہ بشانہ ہرایک میدان میں کام کررہی ہیں تاہم یہاں کی ایک روایت رہی ہے کہ تعلیمیافتہ ہونے کے باوجودبیشتر خواتین شادی شدہ زندگی میںاپنے اوپر ہورہے ظلم وزیادتیوں کےخلاف آواز اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کی خواتین کو گھریلو تشدد کا شکار بننا پڑرہاہے۔گزشتہ روز نیوتھید ہارون میں ایک شادی شدہ خاتون نے سسرال والوں کے تشدد سے تنگ آکر خود سوزی کی ۔مذکورہ خاتون کو مبینہ طور پر سسرال میں تنگ وطلب کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی وجسمانی اذیتوں کانشانہ بنایاجاتاتھا اوراسی زیادتی سے تنگ آکر مذکورہ خاتون نے مبینہ طورپر اپنے سسرال میں خود پرمٹی کاتیل چھڑ ک کرگزشتہ دنوں خودسوزی کی ۔اس دوران جھلسی اس خاتون کواسپتال منتقل کیاگیا لیکن وہ یہاں زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑ بیٹھی۔اگرچہ پولیس نے خاتون کے شوہر اور سسر کو گرفتارکرکے دفعہ302کے تحت کیس درج کرلیاہے تاہم جوقیمتی جان تشدد کی بھینٹ چڑھ گئی ،وہ تو واپس نہیں آسکتی ۔ایسے کم ہی واقعات ہونگے ،جن میں خواتین نے گھریلو تشدد،شوہریاسسرال والوں کے ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھائی ہو۔ بیشترخواتین شادی کے بعد ہر قسم کے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میں ہی عافیت محسوس کررہی ہیںاورجب گھریلو تشدد کی بھٹی میں بھسم ہورہی خواتین کے صبر کاپیمانہ لبریز ہوجاتاہے تو وہ انتہائی اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کررہی ہیں یعنی ایسی خواتین یاتو زہر خوری کرکے اپنی زندگیوں کاخاتمہ کردیتی ہیں یا پھر خودسوزی کرکے گھریلو تشدد سے ہمیشہ ہمیشہ کےلئے چھٹکارا پانے کی کوششیں کرتی ہیں۔جوکہ سراسر غلط قدم ہے ۔کیونکہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں جہاں خواتین کو قوانین نے مردوں کے مساوی حقوق دیئے ہیں،توخواتین کو ظلم وجبر کے سامنے ہاتھ کھڑا کرنے کے بجائے اپنے اوپر ہورہے تشدد کےخلاف سینہ سپر ہوجانا چاہیے اوراپنے حقوق کی لڑائی کے لئے قانونی راہ اختیار کرنی چاہیے ۔نہ تو اسلام اورنہ کسی اورمذہب نے مردوںکو خواتین کوجبروتشدد کاشکار بنانے کاحق دیاہے اور نہ ہی موجودہ ترقی یافتہ زمانے میں مردوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ صنف نازک کو ذہنی وجسمانی تشدد کانشانہ بنائیں۔قانون نے صنف نازک کو اپنی حفاظت کرنیکا بھرپور حق دیاہے اور صنف نازک کےخلاف کسی بھی قسم کی ظلم وزیادتی کوجرم قراردیاہے تو ایسے میں گھریلو تشدد ،جہیز کے لئے تنگ طلبی اور دیگر فروعی معاملاات کولیکر ذہنی وجسمانی اذیتیں جھیلنے والی خواتین کو قانون کا بھرپور سہارالینا چاہیے اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑنی چاہیے۔نہ کہ ظالم شوہر یا سسروالوں کے سامنے سرنڈر کرنا چاہیے ۔ خواتین کو اپنے حقوق سے متعلق آگاہی دلانا سماج کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری کا فرض ہے ۔ہمیں ایسی خواتین کی رہنمائی اور مدد کرنی چاہیے جوگھریلو تشدد کی شکار بن رہی ہوں۔ سیول سوسائٹیز، ایمہ مساجد اور ذی عزت شہریوں کو اس نیک کام کے لئے آگے آنا ہوگا کیونکہ آج اگر حواکی کوئی بیٹی گھریلوتشدد سے چھٹکارا پانے کے لئے خودسوزی یاخودکشی کرتی ہے تو کل ہماری بہن بیٹی بھی ایسا کرسکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم سب کو سماج میں پنپ رہے اس ناسور کوجڑسے اکھاڑ پھینکنے کےلئے آگے آنا چاہیے ۔ہمیں اپنی بیٹیوںکو سماجی بدعات، فروعی معاملات اورگھریلو تشدد کے خلاف لڑنے کی ترغیب دی جانی چاہیے ۔ان میں یہ اعتماد پیدا کرنا چاہیے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھا نا ہی بہتر قدم ہے نہ کہ ظلم وظالم کے آگے سرنڈر کرنا۔ ہمیں بہن بیٹیوں کوصنف نازک قوانین میں دیئے گئے حقوق سے آگاہ کرنا ہوگاتاکہ وہ زندگی کے کسی بھی مقام پر اپنے آپ کوکمزور نہ سمجھیں بلکہ جب ضرورت ہوتو وہ ان قوانین کاسہارا لیکر اپنے اوپر ہورہے جسمانی وذہنی تشدد سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ ہمیں اپنی بیٹیوںکو ذہنی طور مضبوط سے مضبوط تر بناناہوگا ۔ان میںیہ اعتماد پیدا کرنا ہوگا کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں جو حقوق ایک مرد کو حاصل ہیں، وہی حقوق خواتین کوبھی حاصل ہیں۔ جب ہم اپنی بیٹیوں میں ظلم وجبر اورسماجی ناانصافی کےخلاف لڑنےکا اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے تب جاکر گھریلو تشدد اوردیگر فروعی معاملات کولیکر تشد د سہنے والی خواتین کواپنے اوپر ہورہے ظلم وستم سے لڑنے کاحوصلہ ملے گا۔جب مظلوم خواتین کو ظلم لڑنے کا حوصلہ ملے گاتوعین ممکن ہے کہ حواکی کوئی بیٹی گھریلو تشدد ،جہیز کی مانگ اورشوہر وسسرال والوں کے خلاف سینہ سپر ہوکر کھڑی ہوجائے گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں