19

رمضان کی آمد اور گراں بازاری ڈویژنل انتظامیہ کافیصلہ بروقت

ماہ رمضان المبارک کی آمد ہے۔ چند ہی دنوں بعد رمضان المبارک کی انوار و برکات ہم پر سایہ فگن ہوگی. رمضان المبارک ہزاروں برکتوں، رحمتوں اور سعادتوں کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے۔ ہر بندہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس مبارک ماہ کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔اس ماہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ اپنے دلوں کو صاف و پاک کر لیں، روٹھوں کو منا لیں، پچھلی ساری کوتاہیوں، لغزشوں، گناہوں سے توبہ کرلیں۔ اپنے ظاہر و باطن کو پاک و صاف کرکے رمضان المبارک کا استقبال کریں۔ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں چھوٹے سے چھوٹے عمل پر بھی بہت ثواب ملتا ہے۔لیکن وادی کشمیرمیں ناجائز منافع خوراسی متبرک مہینے میں لوگوںکودودوہاتھوں لوٹ رہےہیں ۔دولت کی لالچ میں ناجائز منافع خور اورذخیرہ اندوز اس مبارک مہینے کے تقدس کو بھول جاتے ہیں۔انہیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں ہے کہ اس مہینے میں ایک نیکی کے بدلے اللہ تعالیٰ ہزار نیکیاں بندوں کے نامہ اعمال میں لکھ دیتاہے ۔ماضی میں یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ رمضان المبارک کی آمدکے ساتھ ہی اشیایہ ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیاجاتاہے یعنی جو چیز رمضان سے ایک دن قبل دس روپے میں دستیاب ہوتی ہے وہی چیز رمضان کے آغاز سے پندرہ سے بیس روپے میں فروخت کی جاتی ہے ۔اس متبرک مہینے میں جہاں لوگ اپنی گناہوں کی بخشش کے لئے نیک کام کرتےہیں اور لوگ ایک دوسرے کی مدد اور اعانت کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں ، وہیں ناجائز منافع خوراپنی تجوریوں کو بھرنے کے لئے من چاہی قیمتیں صارفین سے وصول کرتے ہیں۔خوف خدا سے بے عار ناجائز منافع خور اسی متبرک مہینے میں لوگوں کو لوٹنے میں لذت محسوس کررہےہیں۔ ابھی رمضان المبارک کو تین چاردن باقی ہیںلیکن وادی میں گراں بازاری کا سلسلہ شروع ہوگیاہے ۔ اس کی مثال اس بات سے دی جاسکتی ہے کہ کل یعنی شہر سرینگرکے پائین علاقوں میں بیشترمرغ فروش 160روپے فی کلو کے حساب سے مرغ فروخت کررہے تھے جبکہ شہرسرینگرمیں ہی کئی ایک مقامات پریہی مرغ139روپےفی کلو کے حساب سے دستیاب تھا۔عوامی حلقے اس بات پر حیران ہیںکہ شہر خاص ، جوکہ رقبہ کے لحاظ محض چند کلومیٹر تک پھیلا ہواہے،میں مرغوں کی قیمت کیونکر اورکیسے مختلف ہے ۔جومرغ فروش 139روپے میں مرغ فی کلو فروخت کرتے ہیں،انکو بھی اس میں منافع ہوگا کیونکہ کوئی دکاندار یا سبزی فروش بغیر منافع کے کوئی چیز فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔حول علاقے میں ایک مرغ فروش کے مطابق 139روپے کی ریٹ میں اس کوفی کلومرغ میں کم سے کم چار پانچ روپے کامنافع ہوتاہے یعنی جومرغ فروش 160روپے فی کلوکے حساب سے مرغ فروخت کرتے ہیں وہ صارفین سے 20روپے زائد وصول کرتے ہیں۔ عوامی حلقوں کاکہناہے کہ مرغوںکے ساتھ ساتھ سبزیوں اوردیگر اشیایہ خوردنی کی چیزوں کے دام بھی کہیں پر یکساں نہیںہوتے ہیں ،جوکہ عام لوگوں کے باعث پریشانی ہے۔ اب جبکہ رمضان المبارک چند دنوں کی دوری پر ہے تو گراں بازاری کے عادی دکاندار،مرغ فروش ،میوہ فروش اور سبزی فروش بھی عام لوگوں کو لوٹنے کے لئے سرگرم ہورہے ہیں۔انتظامیہ کو بھی ماہ مبارک میں گراں بازاری اورناجائز منافع خوری کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں یہی وجہ ہے کہ ڈویژنل کمشنرناجایز منافع خوروں کو متنبہ کیاہے کہ اگروہ رمضان المبارک میں گراں بازاری اور ناجائز منافع خوری کی روش سے باز نہ آئے تو ان کےخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ڈویژنل کمشنر کشمیر نے متعلقہ حکام کو واضح احکامات صادر کئے ہیں۔ ڈویژنل کمشنر کے مطابق رمضان المبارک میں کسی بھی دکاندار ،سبزی فروش، مرغ فروش یامیوہ فروش کو بلیک مارکیٹنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ناجائز منافع خوری کوبرداشت کیاجائیگا۔ڈویژنل کمشنر نے واضح کیا کہ گراں بازاری یاناجائز منافع خوری کے مرتکب افراد کیخلاف سخت کاروائی عمل میں لاکرنہ صرف ان سے جرمانہ وصول کیاجائیگا بلکہ ان کے خلاف باضابطہ طور کیس بھی درج کئے جائینگے۔ عوامی حلقوںنے ڈویژنل انتظامیہ کے اس فیصلے کی زبردست سراہنا کی ہے ۔ عوامی حلقوں کاماننا ہے کہ اگر انتظامیہ گراں بازاری اورناجائز منافع خوری کے خلاف زمینی سطح پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے گی تو ماہ مبارک میں دہائیوں سے چلی آرہی گراں بازاری اورناجائز منافع خوری کی روش نہ صرف ختم ہوگی بلکہ عام لوگوں کو بھی اس مبارک مہینے میں راحت نصیب ہوگی۔عوامی حلقوں نے ڈویژنل انتظامیہ کے اقدام کو بروقت اورقابل سراہنا قراردیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اب کی بار رمضان المبارک میں ناجائز منافع خوری اورگراں بازاری پر قدغن لگانے میں انتظامیہ کو کامیابی ملے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں